اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نارویجن ریفیوجی کونسل (NRC) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں ضرورت مند افراد کے لیے امدادی فنڈنگ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے باعث پہلی بار یہ ملک دنیا کے نظر انداز کیے گئے انسانی بحرانوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
کونسل کے سیکریٹری جنرل یان ایگلینڈ نے بدھ 10 تیر کو جاری بیان میں خبردار کیا کہ فنڈنگ میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ پڑوسی ممالک سے لاکھوں افغان مہاجرین بھی واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد کی امداد کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی اپیل کی تھی، تاہم اب تک مطلوبہ رقم کا صرف 16 فیصد ہی فراہم ہو سکا ہے۔ نارویجن ریفیوجی کونسل کے مطابق اس صورت حال کی بڑی وجہ امریکا کی مالی امداد میں نمایاں کمی ہے، کیونکہ 2024 تک مجموعی امدادی فنڈز کا 40 فیصد سے زائد حصہ امریکا فراہم کرتا تھا۔
کونسل کے مطابق افغانستان واپس آنے والے بالغ مہاجرین میں صرف 11 فیصد افراد کو مکمل روزگار حاصل ہے، جبکہ باقی اکثریت روزگار اور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
یان ایگلینڈ نے امداد فراہم کرنے والے ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین انسانی بحران پر فوری توجہ دیں، اس سے پہلے کہ مزید لاکھوں افراد بھوک اور مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر فوری طور پر امدادی فنڈنگ میں اضافہ نہ کیا گیا تو متعدد متاثرہ خاندانوں تک ضروری امداد پہنچانا ممکن نہیں رہے گا۔
نارویجن ریفیوجی کونسل نے عالمی انسانی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2026 کے وسط تک دنیا بھر میں ضرورت مند لاکھوں افراد کے لیے درکار امدادی فنڈز کا صرف 30 فیصد ہی فراہم کیا جا سکا ہے۔
آپ کا تبصرہ